بہاریہ مکئی کی کاشت سے برداشت اور شیلر کرنے تک مکمل معلومات

Maize production technology from 2023 to 2024 in Pakistan for the spring season بہاریہ مکئی کی کاشت
$ads={1}

بہاریہ مکئی پاکستان کی ایک اہم غذائی اور نقد آور فصل ہے۔ مکئی کی بہاریہ فصل کی بڑھوتری کے ابتدائی مرحلے کے دوران درجہ حرارت کم ہوتا ہے اور بعد ازاں دن لمبے اور سورج کی وافر روشنی دستیاب ہوتی ہے جس سے بہاریہ مکئی کے بڑھوتری کا دورانیہ موسمی مکئی کی نسبت زیادہ ہوتا ہے اور بہاریہ مکئی کی فی ایکڑ پیداوار خریف مکئی کی نسبت تقریباً 20 تا 25 فیصد زیادہ ہوتی ہے۔ بہاریہ اور خریف مکئی کی پیداوار میں اضافے کی بنیادی وجہ گزشتہ سال مکئی کی قیمت میں اضافہ ہونے کی وجہ سے کپاس، گنا اور دیگر فصلات کا رقبہ کم ہو کر مکئی کی طرف منتقل ہونا ہے۔

مکئی کی ہائبرڈ اقسام

مکئی کی ہائبرڈ اقسام دو مختلف اور جینیاتی خالص لائنوں کے ملاپ سے بنائی جاتی ہیں۔ ہائبرڈ اقسام کی چھلیوں میں دانوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے نیز دانے موٹے اور وزنی ہوتے ہیں اس لیے مکئی کی ہائبرڈ اقسام کی پیداواری صلاحیت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ مارکیٹ میں بین الاقوامی کمپنیوں جیسا کہ ڈیکالب اور پایونیئر کے ہائبرڈ مکئی بیج اور قومی کمپنیوں کی طرف سے تیار کردہ مکئی کی ہائبرڈ اقسام دستیاب ہیں۔

مکئی کے کاشتکاروں سے گزارش ہے کہ سفارش کردہ اقسام رجسٹرڈ کمپنیوں کے رجسٹرڈ ڈیلروں سے ہی خریدیں اور ان سے پکی رسید حاصل کریں نیز بوائی کے بعد بیج والے خالی تھیلوں کو سنبھال کر رکھیں تاکہ کسی شکایت کی صورت میں کام آ سکیں۔ مکئی کی اقسام کا بیج خریدتے وقت ان کے متعلقہ لٹریچر ضرور حاصل کریں۔

وقت کاشت

پنجاب میں مکئی کی بہاریہ فصل کے لیے بہترین وقت کاشت جنوری کے آخری عشرہ سے لے کر فروری کے آخر تک ہے۔

شرح بیج

بہاریہ مکئی کی کاشت اور موسمی مکئی کی کاشت کے لیے شرح بیج کا انحصار بیج کے سائز اور وزن پر ہوتا ہے عمومی طور پر شرح بیج 8 تا 10 کلوگرام فی ایکڑ کی سفارش کی جاتی ہے۔ بیج صحت مند، صاف ستھرا، خالص اور 90 فیصد سے زائد روئیدگی والا ہونا چاہیے۔

زمین کا انتخاب

بھاری میرا اور گہری زرخیز زمین جس میں نامیاتی مادہ کی مقدار بہتر ہو اور پانی جذب کرنے کی صلاحیت اچھی ہو مکئی کی کاشت کے لیے موزوں ہے۔ ریتلی، سیم زدہ اور کلراٹھی زمین مکئی کی کاشت کے لیے موزوں نہیں ہے۔

زمین کی تیاری

بہاریہ فصل کے بہترین اگاؤ اور بڑھوتری کے لیے کھیت کا اچھے طریقے سے تیار ہونا بہت ضروری ہے۔ پہلی مرتبہ مٹی پلٹنے والا ہل چلائیں اور اگر زمین میں سخت تہہ موجود ہو تو گہرا ہل ضرور چلائیں۔ اگر زمین خالی پڑی ہوئی تو مٹی پلٹنے والا ہل مکئی کی کاشت سے ایک تا ڈیڑھ مہینہ پہلے چلائیں اور لیزر لینڈ لیولر کی مدد سے کھیت کو ہموار کرنے کا خصوصی اہتمام کریں۔ کھیت میں اگر سابقہ فصل کے مڈھ یا مٹی کے ڈھیلے موجود ہوں تو روٹاویٹر چلا کر انھیں باریک کر لیں۔ زمین کی بہتر تیاری کے لیے 3 سے 4 مرتبہ ہل اور سہاگہ چلائیں۔

بیج کو زہر لگانا

بہاریہ مکئی کی فصل کو ابتدائی مرحلے میں رس چوسنے والے کیڑوں خصوصاً کونپل کی مکھی کے حملہ اور دیگر بیماریوں کے حملہ سے بچانے کے لئے بیج کو بوائی سے پہلے مندرجہ ذیل زہروں میں سے کوئی ایک ضرور لگائیں۔

ایزوکسی سٹروبن + کلوتھیانیڈن 62.5 فیصد بحساب 9 گرام فی کلوگرام مکئی بیج

ایزوکسی سٹروبن + کلوتھیا نیڈن + فلوڈی آکسی نل 72 فیصد بحساب 9 گرام فی کلوگرام بیج

امیڈاکلوپرڈ+ ٹیبوکونازول 37.25 فیصد بحساب 10 ملی لیٹر فی کلوگرام بیج

طریقہ کاشت

بہاریہ مکئی کی کاشت درج ذیل طریقوں سے کی جا سکتی ہے۔

وٹوں پر کاشت

آبپاش علاقوں میں بہاریہ مکئی کی کاشت کا یہ بہترین طریقہ ہے۔ اڑھائی فٹ کے باہمی فاصلہ پر شرقاً غرباً وٹیں بنائیں اور ہلکا پانی لگانے کے فوراً بعد پانی کی سطح سے تھوڑا اوپر وٹوں کی ڈھلوان پر ایک ایک پیج کا چوکا لگا دیں۔ بہاریہ کاشت میں وٹوں کی جنونی سمت ( صبح سے شام تک دھوپ پڑنے کی وجہ سے بیچ جلدی اُگتا ہے ) پر چوکا لگائیں۔ بہاریہ مکئی میں ہائبرڈ اقسام کو 6 انچ اور عام اقسام کو 7 تا 8 انچ کے فاصلہ پر کاشت کریں۔

پٹڑیوں پر کاشت

آبپاش علاقوں میں مکئی پٹڑیوں پر بھی کاشت کی جا سکتی ہے۔ اس طریقہ کاشت میں بہاریہ مکئی کو ساڑھے تین فٹ کے باہمی فاصلہ پر بنائی گئی پٹڑیوں پر کاشت کیا جاتا ہے۔ اس صورت میں مکئی کے بیج کا پٹڑیوں کی دونوں اطراف لگائیں۔ بہاریہ مکئی میں ہائبرڈ اقسام کو 8 تا 9 انچ اور عام اقسام کو 10 تا 11 انچ کے فاصلہ پر کاشت کریں۔

قطاروں میں کاشت

بہاریہ مکئی کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لیے بارانی علاقوں میں مکئی اڑھائی فٹ کے فاصلہ پر ڈرل، پلانٹر، پوریا کیرا سے کاشت کی جاتی ہے۔ مکئی کی کا قد جب 4 تا 6 انچ ہو جائے تو کمزور اور بیمار پودے نکال کر چھدرائی کریں۔ کم دنوں میں پک کر تیار ہونے والی اقسام میں پودوں کا باہمی فاصلہ 6 تا 7 انچ رکھیں۔ زیادہ دنوں میں پکنے والی اقسام کے لیے پودوں کا درمیانی فاصلہ 7 تا 8 انچ رکھیں اور باقی پودے نکال دیں۔

کاشت بذریعہ میظ پلانٹر

بہاریہ مکئی کی بروقت اور مؤثر کاشت کے لیے میظ پلانٹر بہت کارآمد ہے۔ پلانٹر کے ذریعے کاشت کی گئی فصل کا نہ صرف اُگاؤ بہتر اور یکساں ہوتا ہے بلکہ مزدوروں اور سرمایہ کی بچت بھی ہوتی ہے۔

پودوں کی سفارش کردہ فی ایکڑ تعداد

بہاریہ مکئی کی بھرپور پیداوار حاصل کرنے کے لیے پودوں کی فی ایکڑ سفارش کردہ تعداد کا مکمل ہونا بے حد ضروری ہے۔ لہذا کسانوں سے گزارش ہے کہ درج ذیل ہدایات کے مطابق مکئی کے پودوں کی تعداد کو مکمل کریں۔

بہاریہ کاشت میں ہائبرڈ اقسام کے مکئی کے پودوں کی فی ایکڑ مطلوبہ تعداد 35000 ہونی چاہیے جبکہ عام اقسام کی کاشت کی صورت میں پودوں کی فی ایکڑ مطلوبہ تعداد 26000 تا 30000 ہونی چاہیے۔

آبپاشی

مکئی کی بہاریہ فصل کو عموماً 12 تا 14 آبپاشیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہموار کھیت میں کاشت کی گئی فصل کو پہلی آبپاشی اگاؤ کے 10 تا 12 دن بعد جبکہ وٹوں اور کھیلیوں پر کاشت کی گئی فصل کو اگاؤ تک وتر حالت میں رکھیں یعنی زمین کی ضرورت کے مطابق ہلکا پانی لگاتے رہیں۔ گوبھ کی حالت، سٹہ نکلنے اور دانے کی دودھیا حالت میں مکئی کی بہاریہ فصل کو سوکا نہ آنے دیں۔

شدید گرم موسم میں آبپاشی کا وقفہ کم کر دیں اور درجہ حرارت میں کمی ہونے پر یہ وقفہ بڑھا دیں۔ اگر بارش ہو جائے تو فالتو پانی فوراً کھیت سے نکال دیں۔

جڑی بوٹیوں کا انسداد

مکئی کی بہاریہ فصل کی بھرپور پیداوار حاصل کرنے کے لیے جڑی بوٹیوں کی بر وقت تلفی انتہائی ضروری ہے۔ ایک اندازے کے مطابق بعض صورتوں میں جڑی بوٹیوں کی وجہ سے مکئی کی فی ایکڑ پیداوار میں 30 سے 50 فیصد تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔ چھوٹے پیمانے پر کاشت کی گئی فصل میں جڑی بوٹیوں کے انسداد کے لیے گوڈی بھی کی جا سکتی ہے۔

کیمیائی انسداد کے لیے بوائی کے وقت ایٹرازین + ایس میٹولاکلور 720 ایس سی بحساب 800 ملی لیڑ یا اگاؤ کے بعد ایک ماہ کے اندر اندر میزوٹرائی اون + ایٹرازین 148 ایس سی بحساب 650 ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔ اگر ڈیلا کنٹرول نہ ہو تو میزوٹرائی اون + ایٹرازین 48 ایس سی بحساب 650 ملی لیٹر فی ایکٹر دوسری مرتبہ بھی سپرے کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ ڈیلے کے تدارک کے لیے ہالوسلفیوران میتھائل 75 فیصد ڈبلیو جی بحساب 20 گرام فی ایکڑ 120 لیٹر پانی میں ملا کر ڈیلا اُگنے پر سپرے کیا جا سکتا ہے۔

کیمیائی کھادوں کا استعمال

مکئی کی بہاریہ فصل کے لیے کھاد کی ضرورت کا اندازہ زمین کی زرخیزی، کلراٹھا پن، اس کی قسم، نوعیت، دستیاب پانی کی کوالٹی، مختلف فصلوں کی کثرت کاشت اور پچھلی فصل کی بنا پر کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے زمین کا لیبارٹری تجزیہ کروائیں اور سفارش کردہ کھادوں کا استعمال تجزیہ کی رپورٹ کی روشنی کے مطابق کریں۔

عام طور پر زرخیز زمین میں ہائبرڈ اقسام کاشت کرنے کے لیے بوائی کے وقت دو بوری ڈی اے پی اور بوری ایس او پی فی ایکڑ ڈالیں۔ مکئی کے 5 تا 6 پتے نکلنے پر ایک بوریا، 8 تا 10 پتے نکلنے پر پونی بوری یوریا اور پھول آنے سے تقریباً 15 دن قبل پونی بوری یوریا فی ایکڑ استعمال کریں۔

کھادوں کے استعمال سے متعلق ہدایات

بہاریہ مکئی کی ہائبرڈ اقسام کے لیے کھاد کی مقدار کا تعین کرتے وقت متعلقہ ہائبرڈ قسم کی کھاد کی ضرورت کو مد نظر رکھیں۔ اگر گوبر کی گلی سڑی کھاد دستیاب ہو تو بوائی سے ایک ماہ پہلے بحساب 9 تا 12 ٹن یعنی 3 سے 4 ٹرالی فی ایکڑ ڈالیں۔

بوائی کے وقت ڈالی جانے والی کھادیں کھیلیاں بنانے سے پہلے ڈالیں۔

بارانی علاقوں میں سفارش کردہ کھادوں کی ساری مقدار بوائی کے وقت ڈالیں۔

زنک اور بوران کا استعمال

بہاریہ مکئی کی فصل میں 21 فیصد زنک سلفیٹ بحساب 10 کلوگرام یا 33 فیصد زنک سلفیٹ بحساب 6 کلوگرام جبکہ بوریکس (11 فیصد بوران) بحساب 3 کلوگرام فی ایکڑ استعمال کریں یا ان کے متبادل کوئی دوسرا مرکب دستیاب ہو تو وہ استعمال کریں۔

بہاریہ مکئی کی فصل کے نقصان دہ کیڑے

بہاریہ مکئی کی فصل کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں میں دیمک، کونپل کی مکھی، مکئی کا گڑوواں، چست تیلہ، سست تیلہ، امریکن سنڈی، لشکری سنڈی، جوں یا مائیٹ اور فال آرمی ورم شامل ہیں۔ ان ضرر رساں کیڑوں کا انسداد محکمہ زراعت کے مقامی زرعی ماہرین کے مشورے سے کریں۔

بہاریہ مکئی میں غذائی عناصر کی کمی کی علامات

نائٹروجن

نائٹروجن کی کمی کی صورت میں بہاریہ مکئی کے پودوں کی بڑھوتری رک جاتی ہے اور پتوں کا رنگ پیلا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ زیادہ کمی کی صورت میں پرانے پتے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور بعد میں یہ علامات نئے پتوں پر نظر آتی ہیں۔ پتے میں پیلاہٹ اس کے نوکدار سرے سے شروع ہو کر چوڑے حصے کی طرف جاتی ہے۔ بعد میں پتے بھورے رنگ کے ہو جاتے ہیں۔

فاسفورس

بہاریہ مکئی کے پودوں کی بڑھوتری رک جاتی ہے، جڑوں کا نظام کمزور ہو جاتا ہے، پتوں کے نوکدار سرے ارغوانی رنگ کے ہو جاتے ہیں اور پتہ گہرا سبز نظر آتا ہے۔

پوٹاش

شروع میں پوٹاش کی کمی کی صورت میں بہاریہ مکئی کے پتوں پر سفید نشان پڑ جاتے ہیں جو بعد میں بھورے ہو جاتے ہیں۔

بہاریہ مکئی کی فصل کی برداشت

بہاریہ مکئی کی چھلیوں کے اندرونی پردے جب خشک ہو جائیں، دانے چمک دار اور سخت ہو جائیں، دانوں میں ناخن نہ چبھ سکے اور اگر دانے چھلی سے اکھاڑ کر دیکھے جائیں تو ان کے نوک دار سرے سیاہ یا بھورے رنگ کے ہو چکے ہوں تو سمجھ لینا چاہیے کہ فصل عضویاتی طور پر پک چکی ہے اور برداشت کے لیے تیار ہے۔ اس وقت دانوں میں نمی تقریباً 30 سے 35 فیصد تک ہوتی ہے۔ اس مرحلہ پر مکئی کی فصل برداشت کر لینی چاہیے۔

اگر مندرجہ بالا علامات ظاہر ہونے سے پہلے بہاریہ مکئی برداشت کر لی جائے یعنی کچی توڑ لی جائے تو دانوں کی مکمل بھرائی نہیں ہوتی نتیجتاً مکئی کی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اگر فصل پکنے کے بعد بر وقت برداشت نہ کی جائے تو فصل کے گرنے اور پرندوں کے کھانے کی وجہ سے نقصان کا خدشہ ہوتا ہے۔ اگر فصل کے گرنے کے بعد بارش ہو جائے تو پھپھوندی لگنے سے مکئی کے دانے خراب ہو جاتے ہیں۔

چھلیوں کو سوکھانا اور شیلر کرنا

پردوں سے علیحدہ کی گئی چھلیوں کو پہلے سے بنائے گئے تھڑوں پر دھوپ میں پھیلا دیں اور یکساں خشک ہونے تک ہر روز مسلسل پلٹتے رہیں۔ اگر بارش کا امکان ہو تو چھلیوں کو ترپال وغیرہ سے ڈھانپ دیں اور بارش کے بعد چھلیوں کے اوپر سے ترپال اُتار دیں۔ جب چھلیاں ایک دوسرے پر مارنے سے دانے چھلیوں سے علیحدہ ہو جائیں تو سمجھ لیں کہ مکئی اچھی طرح سوکھ گئی ہے۔

اس وقت دانوں میں نمی تقریباً 15 فیصد تک ہوتی ہے۔ اس مرحلہ پر شیلر کے ذریعے دانے چھلیوں سے علیحدہ کر لیں۔ اگر بہاریہ مکئی کی جنس سٹور کرنی ہو تو اس میں نمی 10 فیصد سے کم ہونی چاہیے۔ بہاریہ مکئی کی پیداواری ٹیکنالوجی پر عمل پیرا ہو کر بہاریہ مکئی کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

بہاریہ مکئی کی جنس کو ذخیرہ کرنا

بہاریہ مکئی کی جنس ذخیرہ کرنے کے لیے سٹور کو اچھی طرح صاف کر کے اس میں سفارش کردہ زہر کا سپرے کریں اور چار گھنٹوں کے لیے دروازے اور کھڑکیاں بند کر دیں تاکہ سٹور میں موجود کیڑے مکوڑے ختم ہو جائیں۔ خشک مکئی کو چھلیوں یا دانوں کی صورت میں سٹور کیا جا سکتا ہے۔ اگر سٹور میں پہلے سے مکئی کی سابقہ جنس موجود ہو تو نئی جنس کو اس سے علیحدہ رکھیں۔ سٹور میں رکھی گئی مکئی کو اس کے استعمال کے لحاظ سے الگ الگ لیبل لگائیں تاکہ کسی قسم کی غلطی کا خدشہ نہ ہو۔ جنس کو کیڑوں سے بچانے کے لیے خصوصاً موسم برسات میں ایلومینیم فاسفائیڈ کی 30 تا 35 گولیاں فی ہزار مکعب فٹ حجم استعمال کریں اور سٹور کو کم از کم ایک ہفتہ تک بند رکھیں تاکہ ہوا کا گزر نہ ہو سکے۔

بہاریہ مکئی کے لیے ہرمیٹک تھیلوں یا کوکون کا استعمال

بہاریہ مکئی کی خشک جنس اور دیگر زرعی اجناس کو ذخیرہ کرنے کے لیے ہرمیٹک کوکون یا ہرمیٹک تھیلے استعمال کریں جس میں فیومیگیشن کی ضرورت نہیں ہوتی اور جنس کو لمبے عرصے تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔

اگر آپ شیئر کریں گے تو ہماری حوصلہ افزائی ہو گی
جدید تر اس سے پرانی